تحریر : ڈاکٹر مدیحہ معراج

قسط نمبر 01

بعض اوقات زندگی کے کچھ مرحلے ایسے ہوتے ہیں جن کے آغاز پر دل میں عجیب سی الجھن، سوالات اور تھوڑا سا خوف چھپا ہوتا ہے۔ خصوصاً جب ایک بچی پہلی بار بلوغت کی دہلیز پر قدم رکھتی ہے، تو جسمانی، ذہنی اور روحانی تبدیلیوں کا سفر شروع ہوتا ہے — ایک ایسا سفر جس کے ہر موڑ پر سمجھ، رہنمائی اور محبت کی ضرورت ہوتی ہے۔

یہ سلسلہ “ڈاکٹر مدیحہ کے قلم سے” انہی نازک لمحوں کو سہارا دینے کے لیے ترتیب دیا گیا ہے۔ یہ تحریریں کسی کلاس روم کی لیکچر نہیں، بلکہ ایک شفقت بھری گفتگو ہیں — جیسے ایک مہربان ڈاکٹر، بڑی بہن یا استاد، نرمی سے کسی بچی کا ہاتھ تھام کر اسے سمجھا رہی ہو:
“یہ سب کچھ فطری ہے، اور تم اکیلی نہیں ہو۔”

یہ اقساط اُن نشستوں پر مبنی ہیں جو کچھ بچیوں کے ساتھ کیں گئ۔ ان کے سوالات، حیرتیں، مسکراہٹیں اور خاموشیاں، سب ہمارے دل میں محفوظ ہو گئیں۔ ہم نے چاہا کہ ان کی روشنی دوسروں تک بھی پہنچے تاکہ ہر بچی جو آج اس راستے پر ہے، خود کو سمجھ سکے، سوال کر سکے، اور اعتماد کے ساتھ آگے بڑھ سکے۔

ہر قسط میں:

  • شرعی رہنمائی
  • طبی اور سائنسی معلومات
    • عملی مشورے
  • اور سب سے بڑھ کر… حیا اور شفقت

کو اس طرح پیش کیا گیا ہے کہ ایک نئی بالغ ہونے والی بچی خود کو اس میں پہچان سکے۔

اگر آپ خود یا آپ کی بیٹی، بہن، شاگردہ، یا کوئی عزیز لڑکی ایسے مرحلے سے گزر رہی ہے،
تو آپ براہِ راست سیشن کے لیے رابطہ کر سکتی ہیں۔
کبھی کبھی ایک محبت بھری گفتگو بہت سے بوجھ ہلکے کر دیتی ہے۔

آئیے… چلتے ہیں اس سفر میں ساتھ ساتھ۔۔

وہ پہلا سوال… “میرے ساتھ کیا ہو رہا ہے؟”

تم نے شاید ابھی ابھی کچھ بدلا بدلا محسوس کیا ہوگا۔ جسم میں تبدیلیاں، دل میں سوال، اور دل کے ساتھ ساتھ کبھی کبھی شرمندگی سی۔ یہ سب تمہارے بالغ ہونے کی نشانیاں ہیں۔ یعنی تم اب ایک بچی نہیں رہیں، ایک نوجوان لڑکی بن رہی ہو۔

پھر ایک دن ایسا بھی آتا ہے، جب اچانک کپڑوں پر ایک دھبہ دکھائی دیتا ہے…
“یہ کیا ہے؟ خون؟”
دل دھک سے رہ جاتا ہے، آنکھیں حیرت سے بھر جاتی ہیں۔ اور پھر تم سوچتی ہو، “کیا یہ ٹھیک ہے؟ کیا مجھے کسی کو بتانا چاہیے؟”

جانتی ہو، یہی وہ دن ہے جب تمہاری زندگی کا ایک نیا باب شروع ہوتا ہے:
ماہواری — جسے اردو میں حیض اور انگریزی میں Menstruation کہا جاتا ہے۔

یہ ہر لڑکی کے ساتھ ہوتا ہے، اور یہ کوئی شرمندگی کی بات نہیں، بلکہ یہ تمہارے جسم کے صحت مند ہونے کی ایک خوبصورت نشانی ہے۔


یہ خون کہاں سے آتا ہے؟ اور کیوں؟
اللہ تعالیٰ نے عورت کے جسم کو خاص بنایا ہے۔ ہر ماہ رحم (یعنی بچہ دانی) کے اندر ایک نرم جھلی بنتی ہے۔اور کچھ دن کے بعد وہ جھلی ہر ماہ خارج ہو جاتی ہے — اسی کو ماہواری کہا جاتا ہے۔ اس میں تھوڑا خون اور جھلی کے کچھ ٹکڑے شامل ہوتے ہیں۔ کوئی کراہیت کی بات نہیں، — یہ صرف جسم کا ایک نظام ہے-

شرعی نکتہ نظر سے
جب حیض شروع ہو جائے، تو تم بالغ سمجھی جاتی ہو، اور اس کے بعد:

  • نماز فرض ہو جاتی ہے
  • روزہ بھی فرض ہو جاتا ہے (رمضان میں)
  • تمہارا اعمال نامہ اب باقاعدہ لکھا جانے لگتا ہے، یعنی تمہاری نیتوں اور اعمال کی جزا و سزا کا حساب شروع ہو جاتا ہے۔

لیکن!
دوران ماہواری نماز اور روزہ معاف ہوتے ہیں۔ یعنی حیض کے دنوں میں نماز نہیں پڑھنی ہوتی یہ بالکل معاف ہوجاتی ہیں جبکہ اگر رمضان ہوں تو روزے اس وقت نہیں رکھے جاتے بعد میں قضا کئے جاتے ہیں۔یہ اللہ کی جانب سے سہولت ہے ۔

غسل کب فرض ہوگا؟
جب حیض ختم ہو جائے (یعنی 3 سے 10 دنوں کے درمیان)،تب تم پر غسل فرض ہو جاتا ہے۔ یعنی مکمل پاکی کے لیے نہانا — پورے جسم پر پانی بہانا۔

غسل کے بعد تم دوبارہ نماز پڑھ سکتی ہو، قرآن کی تلاوت کر سکتی ہو، روزہ رکھ سکتی ہو۔

لیکوریا کیا ہوتا ہے؟
کبھی کبھی تمہیں سفید یا زرد سا مواد کپڑوں پر نظر آئے گا — اسے لیکوریا کہتے ہیں۔ یہ ہر لڑکی اور عورت میں مختلف مقدار میں آتا ہے۔ یہ عام طور پر جسم کی صفائی کا ایک عمل ہے اور بیماری نہیں ہوتا۔
البتہ:

  • اگر اس میں بدبو ہو، رنگ گہرا ہو، یا خارش ہو — تو ڈاکٹر سے رجوع کرو۔
  • پاکی کا حکم: اگر یہ مواد اندر سے آتا ہے (جو کہ اکثر ایسا ہی ہوتا ہے)، تو اس سے وضو ٹوٹ جاتا ہے، لیکن غسل فرض نہیں ہوتا۔

کچھ باتیں حیا کے ساتھ
حیا ایمان کا حصہ ہے۔ اپنے جسم کے بارے میں جاننا، اس کی حفاظت کرنا، اور اس سے متعلق سوالات کرنا — یہ سب علم اور شعور کی علامت ہیں، بے حیائی نہیں۔

یہ تمہارا جسم ہے۔ اسے پہچانو، سمجھو، اور اس کا احترام کرو۔


اگلی قسط میں ہم بات کریں گے:
“ماہواری کے دوران صفائی، عبادات، اور جسمانی و جذباتی تبدیلیوں سے کیسے نمٹا جائے؟

Leave a Reply