ڈاکٹر مدیحہ معراج
قسط نمبر 02
پاکیزگی، عبادات… اور وہ پہلی بار حجاب
پچھلی نشست میں ہم نے اس لمحے کی بات کی تھی، جب تمہارے جسم نے تمہیں اشارہ دیا کہ تم اب ایک نئی دنیا کی مسافر ہو گئی ہو۔ حیض کا آنا — اور اس کے ساتھ ہی بلوغت کا آغاز۔
اب بات کرتے ہیں ان باتوں کی، جو اس سفر میں تمہارے سب سے قریبی ساتھی ہیں:
صفائی، عبادت، اور حیا۔
ماہواری کے دنوں میں صفائی کیسی ہونی چاہیے؟
یہ دن خصوصی ہوتے ہیں، اس لیے صفائی کا بھی خاص خیال رکھنا ضروری ہے:
- روزانہ زیرِ جامہ تبدیل کرنا بہتر ہے۔
- زیر جامہ کاٹن کا استعمال کیا جائے
- حیض کے دوران پیڈ (یا کپڑا) اس طرح رکھنا چاہیے کہ جسم صاف رہے اور بدبو نہ آئے۔
- ہر 3 سے 4 گھنٹے میں پیڈ تبدیل کیا جائے(چاہے ضرورت ہو یا نہیں)
- پیڈ یا استعمال شدہ کپڑا مناسب طریقے سے پھینکنا، اور ہاتھ دھونا — یہ تمہاری صحت کی حفاظت ہے۔
- طہارت پانی سے اچھی طرح حاصل کرو، لیکن اس جگہ براہ راست صابن، خوشبو یا کسی بھی قسم کا کاسمیٹک استعمال نہیں کرنا۔
- زیر ناف بالوں کی صفائی کا خیال بھی ضرور رکھا جائے۔
ان باتوں کا خیال رکھوں گی تو ریشز بھی نہیں ہونگے، لیکن اگر کبھی ہوجائیں تو ناریل کا تیل لگالینا۔سکون آجائے گا ان شاءاللہ
یاد رکھو:
صفائی نصف ایمان ہے۔ اور تمہاری جسمانی پاکیزگی تمہاری روحانی بلندی کی بنیاد بنے گی۔
عبادات کا کیا حکم ہے؟
ان دنوں میں، اگرچہ تمہاری عبادت رک جاتی ہے، لیکن ذکر، دعا، استغفار، اور نیک نیتیں — یہ سب جاری رہ سکتی ہیں۔
اللہ تعالیٰ تمہارے حال سے واقف ہے، اور وہ تمہاری نیت خوب سمجھتا ہے۔
تاریخ یاد رکھنے کا طریقہ
خوب جان لو کہ جب بھی ماہواری کا پہلا دھبہ لگے فورا اسکی تاریخ مع وقت اپنی ڈائری میں نوٹ کرلو اور اسی طرح جب دھبے آنے بند ہوجائے وہ وقت بھی۔
اس عادت کو کبھی نا چھوڑنا۔ اسکو لازم پکڑنا۔اس کی اہمیت کا صحیح اندازا تمھیں اس وقت ہوگا جب استحاضہ کے دن جاننے ہوں۔
استحاضہ کیا یے؟
استحاضہ کا مطلب ہے ماہواری کی ہی طرح سے خون کا آنا لیکن ماہواری کے دنوں کے علاوہ آنا۔جیسے کے تمھیں پتا ہے ماہواری میں کچھ عبادات موقوف ہوجاتی ہیں لیکن استحاضہ میں نہیں ہوتی۔اسلئے استحاضہ کا جب مسئلہ ہو تو پچھلی عادت کو دیکھ کر ہی تمھارے پاکی اور ناپاکی کے دن پتا لگائے جاسکتے ہیں۔
لہذا جب کبھی استحاضہ کا مسئلہ ہو فورا کسی عالمہ سے اپنی تاریخیں بتاکر مسئلہ پوچھ لینا۔
خبردار اس سے غافل بالکل نا ہونا
اور اب… وہ پہلا سوال: کیا اب مجھے حجاب لینا ہوگا؟
جی ہاں۔
جب ایک بچی بالغ ہو جاتی ہے — یعنی حیض آنا شروع ہو جائے یا عمر 9 سے 15 کے درمیان یہ نشانیاں آ جائیں — تو اب اس پر نماز، روزہ، اور پردہ (حجاب) فرض ہو جاتا ہے۔
حجاب صرف ایک دوپٹہ یا عبایا نہیں،
یہ تمہاری پہچان ہے،
تمہاری حفاظت ہے،
اور تمہارے عزت و احترام کی علامت ہے۔
حجاب کیوں ضروری ہے؟
جب تم بچی تھیں، تمہیں ہر کوئی پیار سے دیکھتا تھا۔ اب جب تم لڑکی بن رہی ہو، تمہاری جسمانی ساخت، چہرے کی نرمی، باتوں کا انداز — سب کچھ دوسروں پر اثر ڈال سکتا ہے۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
“اور کہو مومن عورتوں سے کہ اپنی نگاہیں نیچی رکھیں اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کریں، اور اپنی زینت کو ظاہر نہ کریں…”
(سورہ النور: 31)
کیا یہ مشکل ہے؟
بالکل نہیں بلکہ عزت کا تاج ہے — تم خود اس کو اپنانے کے بعد سمجھ جاؤ گی۔
یہ ایسے ہی ہے جیسے کوئی قیمتی چیز خوبصورت کپڑے میں لپیٹی جاتی ہے، تاکہ وہ محفوظ رہے اور اس کی عزت باقی رہے۔
تم بھی اللہ کے نزدیک قیمتی ہو۔ تمہارا جسم، تمہاری آواز، تمہاری چال — یہ سب امانتیں ہیں، اور حجاب ان کی حفاظت کا طریقہ ہے۔
تو اب کیا کرنا ہے؟
- آہستہ آہستہ اپنے دوپٹے، لباس، چال ڈھال میں تبدیلی لانا شروع کرو۔
- عبایا، اسکارف، نقاب، حجاب — جو بھی تمہیں سہولت دے — اپنے انداز کا حصہ بناؤ۔
- اندر سے احساسِ حیاء کو جگاؤ۔ یہی تمہاری اصل خوبصورتی ہے۔
اور ہاں… تم اکیلی نہیں ہو۔
اگر تمہیں الجھن ہو، یا یہ سب کچھ مشکل لگے — تو یاد رکھو، بہت سی لڑکیاں اس راستے سے گزرتی ہیں۔ اس لیے سوال کرو، سیکھو، اور قدم بہ قدم آگے بڑھو۔
اگلی قسط میں ہم بات کریں گے:
“ماہواری کا درد کیوں ہوتا ہے؟ موڈ میں اتار چڑھاؤ کی کیا وجہ ہے؟ کون سے گھریلو ٹوٹکے مفید ہوتے ہیں؟ اور کب ڈاکٹر سے رجوع کرنا چاہیے؟”