میرا مشاہدہ اور تجربہ

تحریر: مفتیہ سیدہ عائشہ ریاض

میں تخصص فی الفقہ والافتاء کی طالبہ ہوں اور میرا تبصرہ تجربہ اور مشاہدہ دونوں کی بنیاد پر ہوگا (ان شاءاللہ)

۔ سب سے پہلی بات تو یہ ہے کہ اگر درس نظامی کی بات کی جاۓ تو طالبات خاموش رہتے رہتے اس قدر خاموش ہوجاتی ہیں کہ وہ پھر مجلس میں بھی بات نہیں کرپاتیں بیان کرنا، ترغیب دینا تو بہت دور کی بات ہے تو یہاں جو میں نے دیکھا وہ کہ بات چیت کی اجازت ہوتی ہے بلکہ معلمات ابتداء خود طالبات سے بات چیت کرتی ہیں تاکہ وہ مانوس ہوکر قریب ہوسکیں اور جو مشکل ہو شئیر بھی کرسکیں

( بولنا، بولنے سے آتا ہے۔ جب بولتے ہیں تب ہی اعتماد بڑھتا ہے)

میں جب تخصص فی الفقہ والافتاء میں آئی تو یہ دیکھ کر حیران رہ گئی کہ ہماری معلمات ہم سے بات کررہی ہیں۔ معلمات کے بات کرنے سے میرے اندر ایک جھجک سی تھی وہ ختم ہوگئی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ الحمد للّٰہ

۔ ہم عالمات جب درس نظامی مکمل کرچکی ہوتی ہیں تو سب ہی کا یہ خیال ہوتا ہے کہ یہ اب بیان کریں گی۔ دعا کروائیں گی۔ جبکہ ہم اپنی یہ ذمہ داری بھول جاتے ہیں کہ ہم نے جو دین سیکھا ہے اس کو آگے پھیلانے کا سبب بننا ہے۔ تو یہ چیز میں نے مرکز الحریم میں تخصص فی الفقہ والافتاء میں داخلہ لینے کے بعد سے سیکھی۔ کہ ہماری ذمہ داری صرف بیانات کرنے تک محدود نہیں ہماری ذمہ داری تو بہت زیادہ ہے۔ زندگی کے ہر موڑ پر ہم نے اپنے ان سات سالہ (درس نظامی سے تخصص تک کی) زندگی کو بہترین انداز سے ڈھالنا ہے۔

۔ ریسرچ ورک: ہمیں تحقیق کرنا اور لکھنا سکھایا گیا۔ درس نظامی میں ہم نے بیانات لکھنا، بیان کرنا تو بہت دور اس کے پاس سے گزرے بھی نہیں لیکن یہاں ریسرچ کا کام کیا۔ شروع شروع میں سب بہت مشکل تھا۔ مجھے لگتا تھا میں یہ سب نہیں کر پاؤں گی۔ لیکن اللّٰهُ کی مدد اور معلمات کی ان گنت محنت سے یہ کام بھی مکمل ہوا سب سے پہلی ریسرچ جو میری تھی وہ بیع اجارہ کی تھی۔ (دیکھنے میں کچھ زیادہ اچھی بھی نہیں تھی لیکن میرے لیے وہ ایک پہاڑ کھودنے کے برابر تھی)

۔ ایک خاص بات جو بہت کم دیکھنے میں آتی ہے کہ یہاں شخصیت پرستی نہیں ہے محبت للہ، فی اللہ ہے، لیکن سب کو برابر کا مقام دیا جاتا ہے نرمی بہت نمایاں ہے۔ غصہ ، ڈانٹ ڈپٹ ، جھڑکنا اس کا مجھے ایک بھی تجربہ پورے سال میں نہ ہوا ۔۔۔ بلکہ ہر بات کو بہت پیار سے سمجھایا جاتا ہے چاہے وہ معلم ہو یا معلمات

۔ معلمہ جمانہ صاحبہ کا تمام طالبات کے لیے ایک بہن کی سی فکر کرنا ۔۔۔۔ کبھی ہمیں یہ احساس نہیں ہونے دیا کہ وہ ہماری معلمہ ہیں۔۔۔۔۔۔ میں نے آج تک ایسا کسی کو نہیں دیکھا ۔۔۔۔ ہر مسئلہ کو خوش اسلوبی سے حل کرنا۔ کبھی کسی بات پر تیوری نہیں چڑھائی۔۔۔۔ ایک جہد مسلسل مزید بہتری کی گویا کہ دن رات اللہ کے دین کی خدمت ۔۔۔ یہی دھن ۔۔۔۔ بغیر انا بیچ میں لائے۔۔۔۔۔۔ مشورہ دینا۔۔۔۔۔۔ مزید بہتری کے لیے ۔۔۔ طالبات کی خیر خواہی کا ایلیمینٹ نمایاں ہے۔

خاص کر مجھے اس بات سے زیادہ حیرت ہوتی جب وہ ہمیں طالبات کی جگہ بہن کہہ کر پکارتی۔ میں نے درس نظامی میں کبھی نہیں دیکھا کہ معلمات طالبات کو بہن کے لقب سے پکارے لیکن جب یہاں معلمہ جمانہ صاحبہ سے بہن کا لفظ سنا تو اپنائیت اور محبت محسوس ہوئی۔۔۔۔۔۔

۔ سراجی فی المیراث: مجھے لگتا تھا میں نے سراجی فی المیراث بہت اچھی پڑھی ہے لیکن اس سال استاد محترم عبد الواجد صاحب نے جس طرز اور جس انداز سے پڑھائی مجھے لگنے لگا کہ میں نے تو سراجی کو بس سر سے اتاری ہے۔ میرا پہلا تجربہ تھا آن لائن کسی معلم سے پڑھنے کا میں نے تو بہت زیادہ تنگ کیا یہ نہیں سمجھ نہیں آتی تھی۔۔۔۔۔ سمجھ بہت اچھی آتی تھی کہ میری خوشی کا کوئی ٹھکانہ نہیں۔۔۔۔۔ لیکن ایک جھجھک تھی۔۔۔۔۔ کہ اگر میں نے کچھ غلط بول دیا تو استاد محترم ڈانٹیں گے پوری کلاس کے سامنے میری بےعزتی ہو جائے گی۔۔۔۔۔۔ لیکن استاد محترم نہایت شفیق معلم ہیں۔۔۔۔۔۔ کبھی بھی کچھ نہیں کہا میرے اتنا تنگ کرنے کے باوجود بہت بہترین انداز سے پڑھایا۔ اللّٰهُ رب العالمین استاد محترم کو دنیا و آخرت کی تمام نعمتوں سے مالا مال فرمائے آمین ثم آمین

۔ بیوعات: کبھی کبھی انسان کو زندگی میں ایسے مسائل درپیش آتے ہیں کہ اس کو سمجھ نہیں آتی وہ کونسی راہ اختیار کرے اس وقت ایک ایسی شخصیت کی ضرورت ہوتی ہے جو انسان کو سیدھی راہ دکھائے اور سیدھی راہ دکھا کر اس پر چلنا سکھائے تو ایسے شفیق اور محترم استاد اللّٰهُ رب العالمین نے عطاء فرمائے۔۔۔۔۔۔جیسے استاد محترم مفتی بشیر صاحب۔۔۔۔۔۔۔ مجھے درس نظامی میں بیوعات کی کبھی سمجھ نہیں آئی۔۔۔۔۔ یہ نہیں کہ پڑھا اچھا نہیں۔۔۔۔ ہمارے استاد محترم بہت زبردست سمجھاتے تھے لیکن مجھے صحیح سے سمجھ نہیں آتی تھی۔۔۔۔ لیکن یہاں تو الحمد للّٰہ وہ کمی پوری ہوگئی استاد محترم مفتی بشیر صاحب سے اتنے بہترین انداز سے سمجھائی کہ جو چیز مشکل لگتی تھی وہ آسانی سے سمجھ آگئی۔۔۔۔ اب الحمد للّٰہ کوئی بھی مسئلہ ہو استاد محترم کی محنت سے اس کو حل کرنے میں بہت آسانی ہوگئی ہے۔۔۔۔۔ اللّٰهُ رب العالمین استاد محترم کو دنیا و آخرت میں بہترین اجر عطاء فرمائے آمین ثم آمین

۔ قانون: یہ ایسی کتاب تھی کہ جو سکول سے ہی بری لگتی تھی۔ بالکل پڑھنے کا دل نہیں کرتا تھا۔ یہاں تک کہ نویں جماعت میں میری سپلی آئی تھی پھر میٹرک میں کلیئر کیا۔ مجھے یہ آئین یاد کرنا بہت مشکل لگتا تھا۔۔۔۔۔۔ لیکن اللّٰهُ رب العالمین استاد محترم مفتی تاج صاحب کو اجر عظیم عطا فرمائے کہ انہوں نے حلوہ کہ طرح آسان کردیا۔۔۔۔۔۔ جب میں نے قانون پڑھنا شروع کیا تو بہت مشکل لگتی تھی کیونکہ ساری انگلش تھی اور میں نے اپنے ذہن میں یہ بات بٹھا دی تھی کہ مجھے انگلش نہیں آتی اور مجھے سمجھ نہیں آئے گی پھر ایک دن اس ڈر کو دل سے نکال لیا کہ انگلش ہے تو کیا ہے ہمیں سب سیکھنا ہے۔۔۔۔۔۔ تو بس اس دن سے سمجھ آنا شروع ہوگیا۔۔۔۔۔۔۔ اس میں جب بہت سی نئی باتیں سیکھنے کو ملی تو دلچسپی اور بڑھ گئی اور بہت اچھی سمجھ آئی الحمد للّٰہ ۔۔۔۔۔۔۔

۔ فلکیات: جب مجھے پتہ چلا کہ تخصص میں فلکیات بھی ہوتی ہے تو میں نے کہا کہ بھئی ہمیں تو پھر فلکی دانوں سے رابطہ کرنا چاہیے ۔۔۔۔۔ کیونکہ یہ تو ان کو ہی بہترین آسکتی ہے۔۔۔۔۔۔ ہم درس نظامی کی فاضلات یہ کیا جانے لیکن استاد محترم عبد الواجد صاحب نے میرے اس خیال پر پانی پھردیا۔۔۔۔۔۔۔ فلکیات میں ریاضی ہونے کی وجہ سے مجھے اچھی لگنے لگی۔۔۔۔۔۔۔ پہلے تو دائروں نے دماغ گھوما دیا کبھی دائرہ ہندیہ۔۔۔۔ کبھی نقطہ۔۔۔۔ کبھی طول بلد۔۔۔۔ کبھی عرض البلد ۔۔۔۔۔ لیکن اللّٰهُ رب العالمین استاد محترم کو جزائے خیر عطاء فرمائے کہ میرے پاس الفاظ نہیں ہیں کہ کس قدر محنت اور لگن سے انہوں نے ہمیں یہ کتاب پڑھائی۔۔۔۔۔۔ نہ سفر کا خیال کیا نہ حضر کا۔۔۔۔۔ نہ بیماری کا خیال کیا نہ صحت کا۔۔۔۔۔ بس ایک جوش، جذبہ، جنون، ہمت اور حوصلہ کے ساتھ ہمیں چلایا اور بہترین ٹپس بتائے ۔۔۔۔ ہمیں خود سے تمرین اور واجبات حل کرنے کی جستجو پیدا ہوئی۔ اور واجب ادا کرنے کے بعد جو استاد محترم کے دعا بھرے کلمات ہوتے تھے کہ جس سے ہماری وہ تمرین حل کرنا بہت چھوٹا کام معلوم ہوتا۔ جتنا میں نے سراجی فی المیراث میں تنگ کیا تھا میری پوری کوشش تھی کہ اس پیریڈ میں بالکل تنگ نہ کروں۔۔۔۔۔ اللّٰهُ رب العالمین استاد محترم کو اسی طرح دین کی خدمت کرنے کے لیے ہمت اور حوصلہ عطاء فرمائے آمین ثم آمین

۔ حلال و حرام: مجھے اس کتاب میں بہت دلچسپی تھی۔ میں نے اس کتاب میں اپنی دلچسپی دیکھتے ہوئے اپنے مقالہ کا عنوان بھی حلال وحرام چنا۔ اللّٰهُ رب العالمین استاد محترم سید عارف صاحب کو دنیا و آخرت کی تمام نعمتیں عطا فرمائے کہ ان کے پڑھانے اور سمجھانے کی وجہ سے میرا شوق اور میری دلچسپی مزید بڑھ گئی۔ جیسا کہ میں نے پہلے بھی عرض کیا کہ یہاں کے معلم اپنے اسفار کی پروا کئے بنا ہی پڑھاتے ہیں۔۔۔۔۔ کیونکہ ان میں دین محمدی ﷺ کو سیکھانے اور آگے پھیلانے کی جستجو ہوتی ہے۔۔۔۔۔ تو تمام معلم ایسے ہی تھے۔ اور ان کے اس جذبہ کو دیکھ کر مجھ میں شوق اور جذبہ پیدا ہوا۔

۔ یہاں پر ایک چیز اور یہ دیکھی ہے یہاں جو اساتذہ کرام اور معلمات جو کتاب پڑھا رہے تھے ہمیں ۔۔۔ وہ میرے مطابق اس علم، اس کتاب کے ماہر ہیں کیونکہ مجھے سوال کرنے کی بہت عادت ہے لیکن میرے سوال سے پہلے ہی جواب آجایا کرتا تھا۔۔۔ حکیمانہ انصاف ۔۔۔۔۔ نمایاں ہے۔

یہاں میرڈ خواتین بہت آسانی سے علم دین حاصل کرسکتی ہیں اور کم عمر لڑکیاں ابتداء سے ہی مضبوط بنیادوں پر کھڑی ہوسکتی ہیں اگر وہ مرکز الحریم سے جڑ جائیں۔۔۔۔۔
۔ اگر کوئی بیمار ہو تو اسے فارغ، بیکار نہیں سمجھا جاتا بلکہ اس کی صحت یابی کی دعا کی جاتی ۔۔۔۔۔۔ اور ان کی بساط کے مطابق ان کے ساتھ چلا جاتا ہے۔
یہ شعر گویا فٹ آتا ہے!
پہلے میرا شمار پتھروں میں ہوتا تھا
میرے استاد نے تراش کر مجھے ہیرا بنا دیا
رہبر بھی یہ ہم دم بھی یہ غم خوار ہمارے
استاد یہ قوموں کے ہے معمار ہمارے

۔ مسائل مستورات اگر اس سال نہ پڑھے ہوتے تو شاید مجھے یہ حق نہ تھا کہ میں عالمہ کہی جاتی ۔۔۔۔ یہ تو درس نظامی میں ہونا چاہیے تھا۔۔۔۔۔ میرے اندر شاید یہ ایک کمی تھی کہ میں ہر بات کو جلدی بھول جاتی ہوں۔۔۔۔ کوئی بھی بات جتنی جلدی سمجھ آتی ہے اتنی جلدی ہی بھول بھی جاتی ہوں۔۔۔۔۔ لیکن ہماری معلمہ جمانہ نے ہمیں بہت باریکی سے ایک ایک غلطی پکڑ کے بہت خوش اسلوبی سے سمجھایا کبھی بھی کسی بھی وقت اگر میں پرسنل پر میسج کرتی تو جواب دے دیتی کبھی یہ نہیں کہا کہ کلاس کا وقت ختم ہوگیا ہے آپ کلاس کے وقت سوال کریں۔۔۔۔۔۔
یہاں کی معلمات اگر کوئی کام کہہ دیں تو وہ ایک ۔۔۔ شرمندہ کیا الفاظ استعمال کروں ۔۔۔۔۔۔کہ ایسا انداز ہوتا ہے (یہ کام کردیں گی؟) یہ جملہ ۔۔۔۔۔ اللّٰهُ اللّٰهُ اللّٰهُ۔۔۔۔۔۔۔جب کہ استاد کا حق ہوتا ہے وہ کام کروا سکتے ہیں لیکن یہ اسلاف کا طریقہ ہے جو میں نے یہاں دیکھا ۔۔۔۔یہاں کتابیں منگوائی بھی جاسکتی ہیں لیکن مجبور نہیں کیا جاتا الٹا پی ڈی ایف دے دیا جاتا ہے۔۔۔۔۔ دین دیا جارہا ہے کاروبار نہیں کیا جارہا ۔۔۔۔۔
14۔ معلمہ شبانہ شریف صاحبہ: اپنی مثال آپ ہیں۔ سچ کہوں تو شروع شروع میں مجھے ان سے بہت ڈر لگتا تھا۔۔۔۔۔۔۔ ہمارے سنائی کے امتحان لیتے وقت مجھے لگتا تھا جو یاد کیا ہے وہ ان کے سامنے سارا بھول جائے گا۔۔۔۔۔۔۔ بہت بارعب شخصیت کی حامل ہیں۔۔۔۔ لیکن وہ کہتے ہیں جو جتنا سخت لگتا ہے وہ اندر سے اتنا ہی نرم ہوتا ہے۔۔۔۔۔۔۔ تو یہ چیز میں نے معلمہ شبانہ صاحبہ میں پائی ۔۔۔۔۔۔ میں نے شروع میں اپنے کچھ معلم اور معلمات کو بہت تنگ کیا جن میں نے یہ بھی شامل ہیں ۔۔۔۔۔ کبھی کوئی بات سمجھ نہیں آئی تو فوراً ان کے پاس چلی جانا معلمہ مجھے یہ سمجھ نہیں آرہا ۔۔۔۔۔ حتیٰ کہ میں نے یہ بھی کہہ دیا تھا کہ مجھے نہیں لگتا میں یہ تخصص کرسکوں لیکن معلمہ نے اتنے پیار سے سمجھایا کہ الحمد للّٰہ آج اس مقام پر پہنچی اور میں تخصص فی الفقہ والافتاء کی طالبہ ہوں۔ اللّٰهُ رب العالمین معلمہ کو اس کا بہترین اجر عطاء فرمائے آمین ثم آمین
15۔ معلمہ حیا حریم صاحبہ: ان کے تو کیا ہی کہنے۔۔۔۔۔ ایک نگران ہوکر ایسے بہترین انداز سے لے کر چلی جیسے ان کے ذمہ کوئی کام ہی نہیں۔۔۔۔۔ کبھی یہ نہیں کہا کہ میں ایک ادارہ کی نگران ہوں مجھے میسج نہ کریں مزید بہت سے کام ہوتے ہیں۔۔۔۔۔ نہیں سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔۔۔۔۔ اتنے میٹھے انداز سے بات کرتی ہیں کہ بات دل میں گھر کر جاتی ہے۔۔۔۔ مجھے لگتا تھا کہ عورت چاہے عالمہ ہو غیر عالمہ بس اس کا کام گھر کی ذمہ داریوں کو پورا کرنا ہے لیکن معلمہ حیا حریم صاحبہ کو دیکھ کر مجھے یہ احساس ہوا کہ عورت کی ذمہ داری صرف چار دیواری تک محدود نہیں وہ برا وقت آنے پر اپنے باپ کا بازو بھی بن سکتی ہے، بھائی کے ساتھ کھڑی ہوسکتی، شوہر کے ساتھ کھڑی ہوسکتی ہے، بچوں کے ساتھ کھڑی ہوسکتی ہے۔۔۔۔ عورت کا تعلیم حاصل کرنا بےکار نہیں۔۔۔۔ بلکہ کار آمد ہے۔۔۔۔۔ ہمارے ہاں ایک جملہ مشہور ہے۔۔۔۔۔ پڑھ لکھ کر پانڈے ہی دھونے ہیں۔۔۔۔۔ کیا فائدہ پڑھائی کا۔۔۔۔۔۔ لیکن میں کہتی ہوں ان پانڈوں کو سلیقے سے رکھنا یہ تعلیم ہمیں سکھاتا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔
میں کوئی رائٹر نہیں ہوں اور نہ ہی میرے پاس اتنے عمدہ اور بہترین الفاظ ہیں جس سے اساتذہ کرام کی تعریف کی جاتی ہے۔۔۔۔ مجھے لگتا ہے وہ الفاظ اس پوری دنیا میں کسی کے پاس نہیں۔۔۔۔۔۔۔۔ کہ میں وہ قیمتی الفاظ خرید کر اپنے اساتذہ کرام کے نام کر سکوں ۔۔۔۔۔۔ اگر وہ قیمتی الفاظ ملتے تو میں اپنے ان تینوں معلمات ( معلمہ جمانہ صاحبہ، معلمہ شبانہ شریف صاحبہ اور معلمہ حیا حریم صاحبہ) کی نذر کرتی۔۔۔۔۔۔ بس اتنا کہنا چاہوں گی کہ میں نے ان جیسا انمول اور ان جیسی مٹھاس کسی میں نہیں پائی۔۔۔۔۔۔۔ شاید میں ان کی شان کے مطابق بات نہیں کرسکتی۔۔۔۔۔ بس یہ دعا ضرور کروں گی کہ اللّٰهُ رب العالمین ان کو ہمیشہ سلامت رکھے آمین ثم آمین
میری بہت خواہش ہے کہ میں مزید تخصص فی التفسیر کروں اور یہ شوق اور جذبہ مرکز الحریم میں ایک سال گزارنے کے بعد پیدا ہوا
ٹرننگ پوائنٹ تو درس نظامی تھا ۔۔۔۔ لیکن اب معلوم ہوتا ہے کہ واقعی درس نظامی کیا ہے تخصص فی الفقہ والافتاء کے بعد ۔۔۔۔ کچھ معلوم نہ تھا دنیا میں کیا ہورہا ہے اور دین کو کیسے اپلاۓ کرنا ہے پہنچانا ہے ۔۔۔ اعتماد کے ساتھ۔۔۔۔۔ یہ معلوم نہ تھا۔۔۔۔۔۔ جیسے کہ ایک بند کمرے کی عالمہ ہوا کرتی ہے۔۔۔۔۔۔ بس وہی تھی۔۔۔۔۔ کچھ الجھی ہوئی۔۔۔۔۔۔ کچھ سلجھی ہوئی۔۔۔۔۔۔ لیکن مرکز الحریم نے اس الجھن کو سلجھایا۔۔۔۔ اللّٰهُ رب العالمین مرکز الحریم تو شاد و آباد رکھے اس میں پڑھنے اور پڑھانے والوں کو ہمیشہ سلامت رکھے۔۔۔۔۔۔
مجھ سے جب تک ہوسکا میں اس مرکز کے ساتھ کھڑی رہوں گی۔۔۔۔۔ اور اپنی خدمات دیتی رہوں گی (ان شاءاللہ)
میری ہمیشہ سے یہ خواہش رہی ہے چاہے میرے سب سے بہترین نمبر ہو یا نہ ہو بس میں اپنے اساتذہ کرام کے ادب میں کوئی کمی نہ رہنے دوں لیکن پھر بھی انسان ہوں اور انسان خطا کا پتلا ہوتا ہے۔ آخر میں اپنی کی گئی تمام غلطیوں پر اپنے تمام اساتذہ کرام سے معافی کی طلب گار ہوں۔

Markaz Al Hareem

an educational institute for young female youth

This Post Has 2 Comments

  1. Ummy waliyullah

    ماشاءا للہ بارک اللہ فیکن
    اللہ پاک مزید قبول فرماۓ دن دگنی رات چگنی ترقی عطا فرماۓ ۔ بےشک مرکز الحریم ہمارا شان ہمارا فخر ہماری جان ہے ۔

  2. Zeynep Pitafi

    خوب ما شاء اللہ ما شاء اللہ بہت

Leave a Reply